اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے بیٹے سمیت 10 اہم ایرانی شخصیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے کے تحت چلنے والے انصاف کے لیے انعامات پروگرام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص ان ایرانی رہنماؤں کے بارے میں قابلِ عمل معلومات فراہم کرے گا اسے بھاری مالی انعام دیا جائے گا۔بیان کے مطابق معلومات فراہم کرنے والے افراد کو نہ صرف 10 ملین امریکی ڈالر تک انعام مل سکتا ہے بلکہ انہیں امریکا منتقل ہونے اور خصوصی تحفظ حاصل کرنے کا موقع بھی دیا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد اور نیٹ ورکس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے جو ایران کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔امریکا کی جانب سے جن ایرانی رہنماؤں کے بارے میں معلومات مانگی گئی ہیں ان میں مجتبی خامنہ ای کے علاوہ ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ، سپریم لیڈر کے دفتر کے نائب چیف آف اسٹاف ، پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر اور بریگیڈیئر جنرل سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران میں اس اعلان کے باوجود حکومتی شخصیات نے کسی قسم کے دباؤ کو قبول نہ کرنے کا پیغام دیا ہے۔ تہران میں یوم القدس کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی میں علی لاریجانی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ریلی کے دوران ایرانی رہنماؤں نے عوام کے ساتھ ملاقاتیں کیں، سیلفیاں بنوائیں اور امریکا و اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ یا دھمکیوں سے ایران کی قیادت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا کا یہ اعلان ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری تناؤ پہلے ہی بڑھ چکا ہے۔