اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی جاب مارکیٹ کو فروری میں بڑا دھچکا لگا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس ماہ کے دوران تقریباً 84,000 ملازمتیں ختم ہوئیں
جس سے ملک کی بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ معلومات اسٹیٹسٹکس کینیڈا کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ نئے اعداد و شمار میں سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملازمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ کل وقتی اور نجی شعبے کی ملازمتوں میں کمی تھی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں پچھلے چند مہینوں میں جو معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا وہ اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سب سے زیادہ اثر 25 سے 55 سال کی عمر کے لوگوں پر پڑا ہے، جب کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں روزگار کے مواقع بھی کم ہوئے ہیں۔
صنعت کو دیکھیں تو مینوفیکچرنگ اور سروس دونوں شعبوں میں ملازمتیں کم ہوئی ہیں۔ تھوک اور خوردہ تجارت کے شعبے میں تقریباً 18,000 ملازمتیں ختم ہوئیں، جب کہ تعمیراتی شعبے میں 12,000 ملازمتیں اور مینوفیکچرنگ میں تقریباً 9,200 ملازمتیں ختم ہوئیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار توقعات کے برعکس ہیں۔ تجزیہ کاروں نے اندازہ لگایا تھا کہ فروری میں تقریباً 10,000 نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی لیکن درحقیقت بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم ہو گئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بینک آف کینیڈا کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ لیبر مارکیٹ کی رفتار کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس کے باوجود اجرتوں میں کچھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اوسط فی گھنٹہ اجرت گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.9 فیصد بڑھ کر 37.56 ڈالر ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبر مارکیٹ میں حصہ لینے والے افراد کی شرح 0.1 فیصد کم ہو کر 64.9 فیصد ہو گئی ہے۔ نوجوانوں میں بے
روزگاری کی شرح بھی بڑھ کر 14.1 فیصد ہو گئی ہے جو تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق نسلی اقلیتی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح دیگر نوجوانوں کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ ہے۔