اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے اپنے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئل ٹرمینل پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن ردعمل دینے کا واضح انتباہ جاری کر دیا ہے۔
ایرانی عسکری ترجمان کے مطابق اگر اس حساس تنصیب کو نشانہ بنایا گیا تو جواب میں حملہ آور ملک کی توانائی کی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔ایرانی افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا یا کسی اور ملک کی جانب سے خارگ جزیرے پر حملہ کیا گیا تو ایران اس کے جواب میں اسی ملک کی تیل اور گیس تنصیبات پر بھرپور کارروائی کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی وارننگز کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور ان پر عمل بھی کرتا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل شکارچی نے خطے کے پڑوسی ممالک کو بھی خبردار کیا کہ اگر کسی ملک نے امریکا کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی تو وہ بھی ایرانی ردعمل سے محفوظ نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق ایسے ممالک کے توانائی کے مراکز ایران کے ممکنہ حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل ایران کے خارگ جزیرے کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ جزیرہ خارگ ایران کے ساحل سے تقریباً 15 ناٹیکل میل دور واقع ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا تیل برآمدی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس جزیرے کے ذریعے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ عالمی توانائی منڈی میں بھی انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔دفاعی و معاشی ماہرین کے مطابق اگر خارگ آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا یا ایران نے اپنے انتباہ پر عمل کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہوں گے، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔