اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے اعلان کیا ہے کہ کئی برسوں کی مسلسل کوششوں کے بعد سرحد پار تیل کی ترسیل کے ایک اہم منصوبے کو بڑی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
ان کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت بریجر پائپ لائن کی توسیع کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ یہ منصوبہ ماضی کے متنازعہ کی اسٹون ایکس ایل منصوبے کی جزوی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کی اسٹون ایکس ایل منصوبہ کئی بار شروع اور بند ہوتا رہا اور اس پر پہلے ہی البرٹا کے ٹیکس دہندگان کے تقریباً ایک ارب تیس کروڑ ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔ اب نیا منصوبہ کیلگری میں قائم کمپنی ساؤتھ بو اور امریکہ کی بریجر کمپنی کے اشتراک سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں پہلے سے موجود ڈھانچے کو استعمال کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے روزانہ پانچ لاکھ بیرل سے زائد خام تیل امریکہ کی مختلف تنصیبات اور ریفائنریوں تک پہنچایا جائے گا۔
بریجر پائپ لائن کی توسیع البرٹا کی سرحد سے شروع ہو کر مشرقی مونٹانا اور وائیومنگ سے گزرتی ہوئی ایک اور پائپ لائن سے جڑے گی۔ تاہم منصوبے کی تکمیل سے قبل ریاستی اور وفاقی سطح پر مزید ماحولیاتی منظوریوں کی ضرورت ہوگی۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام اگلے سال شروع ہونے کی توقع ہے۔
ڈینیئل اسمتھ نے سماجی رابطوں کے ذریعے جاری بیان میں گزشتہ سال ہونے والے توانائی معاہدے اور وفاقی حکومت کی جانب سے تیل و گیس پیداوار کی حد ختم کرنے کے فیصلے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے البرٹا کے پیدا کنندگان کو عالمی ضروریات کے مطابق زیادہ تیل نکالنے کا موقع ملے گا، اور حالیہ پیش رفت اس پالیسی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں نے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ پائپ لائن میں خرابی کی صورت میں تیل کا اخراج ماحول کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ پائپ لائن اپنی مکمل صلاحیت پر کی اسٹون ایکس ایل کے مقابلے میں دو تہائی مقدار میں تیل منتقل کرے گی۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے دو ہزار اکیس میں اقتدار سنبھالتے ہی کی اسٹون ایکس ایل کی اجازت منسوخ کر دی تھی، جس کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی کے خدشات بتائی گئی تھی۔ اس فیصلے پر کینیڈین حکام، خصوصاً اس وقت کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔
نئے منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ شمالی امریکہ میں توانائی کے استحکام کو مضبوط کرے گا، جبکہ مخالفین اسے ماحولیاتی خطرات میں اضافے کا سبب قرار دے رہے ہیں۔ اس طرح یہ منصوبہ ایک بار پھر معاشی مفادات اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان جاری بحث کا مرکز بن گیا ہے۔