اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اقوام متحدہ نے افغانستان میں طالبان حکومت کو عالمی امن اور انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ان پر عائد پابندیوں کو برقرار رکھا ہے۔
عالمی ادارے کے اس اقدام کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔افغانستان میں برسرِ اقتدار افغان طالبان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ خواتین اور اقلیتوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر شدید پابندیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے باعث ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے۔
افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے طالبان پر عائد پابندیوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری اب بھی طالبان کو ایک خطرناک گروہ کے طور پر دیکھتی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان کے 22 اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں افغانستان کے عبوری وزیرِاعظم محمد حسن اخوند اور وزیر خارجہ سراج الدین حقانی بھی شامل ہیں۔ ان پابندیوں میں سفری قدغنیں، اثاثوں کا انجماد اور دیگر مالی پابندیاں شامل ہیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے بھی سلامتی کونسل کے فیصلے کی روشنی میں طالبان پر اپنی پابندیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اب بھی عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔دفاعی اور سلامتی کے ماہرین کے مطابق طالبان کی موجودہ پالیسیوں نے افغانستان کو ایک مرتبہ پھر شدت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ ان کے بقول اقوام متحدہ کی پابندیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی برادری طالبان کو ایک باقاعدہ ریاستی حکومت کے بجائے ایک عسکری گروہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی سرپرستی میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس نہ صرف افغانستان بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔