اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں حصہ نہیں لے گا
تاہم خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران کیئر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان کام نہیں، لیکن عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے اسے جلد بحال کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مقصد کے لیے برطانیہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر بامعنی منصوبے اور حکمت عملی تیار کر رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔برطانوی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنے گا اور برطانیہ اس تنازع میں خود کو براہِ راست شامل نہیں کرے گا۔ انہوں نے عالمی معیشت پر جاری جنگ کے اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے۔
کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ اب تک تقریباً 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں اور حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی اقدام کے لیے تیار رہا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ برطانیہ اس تنازع کے تیز ترین حل کے لیے کام کرتا رہے گا اور وقت کے ساتھ ہی یہ واضح ہو جائے گا کہ برطانیہ کا موقف درست تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات مستحکم اور دوستانہ ہیں، اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے تعاون جاری رہے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے برطانیہ سمیت دیگر ممالک کی اقتصادی اور سفارتی حکمت عملیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔