اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر میزائل حملے کیے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملے علی لاریجانی کی شہادت کے ردعمل میں کیے گئے، جن میں کلسٹر وار ہیڈز لے جانے والے میزائل استعمال کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں اسرائیلی فوجی تنصیبات کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ایران کے طاقتور عسکری ادارے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تازہ کارروائی میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً 200 اسرائیلی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں صرف 2 افراد ہلاک ہوئے جبکہ چند دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے متضاد اعداد و شمار سامنے آنا معمول کی بات ہے، تاہم یہ صورتحال خطے میں ایک بڑے تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔عالمی برادری نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔