اردوورلڈکینیڈا ( ویب نیوز ) خلیجی خطے میں کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں قطر نے ایرانی سفارتکاروں کے خلاف سخت سفارتی اقدام اٹھاتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
قطری حکومت کی جانب سے جاری سرکاری اعلامیے کے مطابق دوحہ میں قائم ایرانی سفارتخانہ کے سیکیورٹی اور ملٹری اتاشیوں کو “ناپسندیدہ شخصیت” (Persona Non Grata) قرار دے دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں اعلیٰ عہدیداروں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا گیا، جس کے باعث انہیں 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر نے اپنے آئل فیلڈز پر حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔ قطری ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں نے توانائی کے اہم ڈھانچے کو خطرے میں ڈال دیا، جس کے بعد حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے سفارتی سطح پر سخت قدم اٹھایا۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک کی جانب سے سفارتکاروں کو “ناپسندیدہ شخصیت” قرار دینا انتہائی سنجیدہ اور غیر معمولی قدم ہوتا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد قطر اور ایران کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب خلیجی خطے میں توانائی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آئل اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔تاحال ایران کی جانب سے اس فیصلے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور کسی بڑے سفارتی یا عسکری تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔