اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی فضائی کمپنی اسپرٹ ایئرلائنز نے تقریباً چونتیس برس خدمات انجام دینے کے بعد اچانک اپنے تمام فضائی آپریشنز فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔
ایئر لائنز کی اچانک بندش کے باعث ہزاروں مسافر شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں اور انہیں اپنی سفری منصوبہ بندی تبدیل کرنا پڑ رہی ہے۔ کمپنی کے صدر ڈیو ڈیوس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں مالی دباؤ ناقابل برداشت ہو گیا اور کمپنی مزید سرمایہ حاصل کرنے میں ناکام رہی، حالانکہ مارچ دو ہزار چھبیس میں قرض دہندگان کے ساتھ ایک بحالی منصوبہ بھی طے پایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں
متاثرہ مسافروں کے متبادل سفری اخراجات ادا کیے جائیں گے،ایئر کینیڈا کا اعلان
اس اچانک فیصلے کے اثرات کینیڈا کے مسافروں پر بھی پڑے ہیں کیونکہ بہت سے لوگ سستی پروازوں کے لیے امریکہ کے سرحدی شہروں نیاگرا فالز اور پلیٹس برگ کا رخ کرتے تھے، مگر اب یہ سہولت ختم ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال، نے تیل اور جہازوں کے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس سے پوری فضائی صنعت متاثر ہو رہی ہے، اور اسی وجہ سے دیگر فضائی کمپنیاں جیسے ایئر کینیڈا، ویسٹ جیٹ اور ایئر ٹرانزیٹ بھی اپنی پروازوں میں کمی اور مختلف راستوں کی معطلی جیسے اقدامات کر رہی ہیں۔
کمپنی نے مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہوائی اڈوں کا رخ نہ کریں، جبکہ براہ راست ٹکٹ خریدنے والوں کو خودکار رقم واپس کی جائے گی اور دیگر معاملات کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو مستقبل میں فضائی سفر مزید مہنگا اور غیر یقینی ہو سکتا ہے۔