اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کا ایران کو سخت انتباہ
واضح کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ریاض میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے مسلسل شہری مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ دعویٰ کہ حملے امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کی وجہ سے ہو رہے ہیں، حقیقت سے بعید ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہمسایہ ممالک پر حملوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ایسے اقدامات ایران کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ایران کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بامعنی مکالمے کے بجائے دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم یہ دباؤ کامیاب نہیں ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مملکت کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی بلکہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سمندری راستوں کی آزادی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایران کو اپنے پراکسی گروپس کی حمایت فوری طور پر بند کرنی چاہیے۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مملکت کی اولین ترجیح خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کا فوری خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور اس کے ہمسایہ ممالک اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں، اس کے باوجود انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا تاکہ خطے میں امن و استحکام بحال کیا جا سکے اور حملوں کو روکا جا سکے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو فوجی آپشن بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔