اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں پولیس نے گزشتہ ہفتے ایڈمنٹن کے جنوب میں شاہراہ پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ملوث مشتبہ گاڑی برآمد کر لی ہے، جس میں بائیس سالہ بیرندر سنگھ ہلاک ہو گئے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق سرمئی رنگ کی دو ہزار بائیس ماڈل پک اَپ گاڑی مل گئی ہے، تاہم گاڑی کی برآمدگی، مقام یا تفتیش سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ حکام نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید معلومات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
تفتیش کاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جو افراد ہفتے کے روز دوپہر تقریباً دو بج کر پچاس منٹ کے قریب لیڈک کے جنوب میں شاہراہ نمبر دو اور ٹاؤن شپ روڈ چار سو نوے کے قریب موجود تھے، وہ اپنی گاڑیوں میں لگے کیمروں کی ریکارڈنگ فراہم کریں۔
متوفی کے دو دوستوں کے مطابق وہ تینوں ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے اور بیرندر سنگھ بائیں لین میں گاڑی چلا رہے تھے کہ ایک پک اَپ گاڑی ان کے برابر آ گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گاڑی میں سوار دو افراد نے ہاتھ سے امن کا اشارہ کیا، جس پر بیرندر سنگھ نے بھی جواباً ویسا ہی اشارہ کیا۔
دوستوں کے بیان کے مطابق اس کے بعد پک اَپ گاڑی نے رفتار کم کی اور پھر دوبارہ تیز ہو کر ان کے برابر آ گئی۔ اسی دوران گاڑی میں بیٹھے ایک شخص نے کھڑکی نیچے کر کے فائرنگ کر دی۔ گولی بیرندر سنگھ کی گردن پر لگی اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔
ملزمان فائرنگ کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ بیرندر سنگھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔متوفی کے دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اچانک اور بلا اشتعال تھا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے اس کے پیچھے امتیازی رویہ کارفرما ہو۔ بیرندر سنگھ تین سال قبل بھارت سے کینیڈا آئے تھے۔
سکھ برادری کی ایک نمایاں تنظیم نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات نفرت پر مبنی جرم کے طور پر کی جائیں۔ تنظیم کے ایک رہنما نے کہا کہ اگرچہ پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی، تاہم بظاہر اس واقعے کے پیچھے تارکینِ وطن کے خلاف نفرت کا عنصر موجود ہو سکتا ہے۔