اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی جانب سے اسرائیلی شہر حیفہ میں واقع آئل ریفائنری پر مبینہ حملے کی اطلاعات نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ حملہ جدید ملٹی وار ہیڈ “نصراللہ” میزائل کے ذریعے کیا گیا، جسے پہلی بار کسی حقیقی عسکری کارروائی میں استعمال کیا گیا ہے۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے کا ہدف حیفہ کی اہم تیل صاف کرنے والی تنصیبات تھیں، جو اسرائیل کی توانائی سپلائی کا ایک بڑا مرکز سمجھی جاتی ہیں۔ دھماکوں کے بعد علاقے میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ہنگامی سروسز نے فوری طور پر کارروائیاں شروع کر دیں۔ اسرائیلی حکام نے نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم مقامی میڈیا کے مطابق انفراسٹرکچر کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب ایران سے منسلک ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں “نصراللہ” نامی ملٹی وار ہیڈ میزائل استعمال کیا گیا، جو بیک وقت متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق اس قسم کے میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے اور زیادہ تباہی پھیلانے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔اسرائیلی دفاعی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ادھر بین الاقوامی برادری نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ہی کشیدہ صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرے گا، جہاں جدید ہتھیاروں کا استعمال کھلے عام ہونے لگا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کسی بڑے تصادم کے امکانات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔