اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے،
جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ حملوں نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔ ایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیل نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اسرائیلی وزارتِ تعلیم کے مطابق اتوار اور پیر کے روز تمام طلبہ، اساتذہ اور عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں جسمانی طور پر حاضر نہ ہوں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات اور شہریوں کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں کا ہدف جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا اور عراد تھے۔ دیمونا، جہاں اسرائیل کا حساس جوہری مرکز واقع ہے، پر یکے بعد دیگرے دو میزائل حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں، جبکہ کم از کم 6 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب عراد شہر بھی ایرانی میزائلوں کی زد میں آیا، جہاں اسرائیلی میڈیا کے مطابق 6 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ذرائع کے مطابق ایران نے یہ حملے نطنز میں اپنی جوہری تنصیبات پر ہونے والے مبینہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں کیے۔ نطنز ایران کے اہم ترین جوہری مراکز میں شمار ہوتا ہے، اور وہاں ہونے والی کارروائی نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرات کو بڑھا رہی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔