اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے بحال نہ کیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت میں ایران کے توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا جائے گا، جس میں پاور پلانٹس کو مرحلہ وار تباہ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ممکنہ کارروائی کا آغاز ایران کے سب سے بڑے بجلی گھر سے کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے مفادات اور عالمی توانائی کی سپلائی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی دھمکیوں کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی تنصیبات پر حملہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق خطے میں کسی بھی قسم کی جارحیت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ادھر ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار The New York Times کے ایک رپورٹر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایران کی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ میڈیا اس کے برعکس تاثر دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں، اور یہ بھی کہا تھا کہ جو ممالک آبنائے ہرمز استعمال کرتے ہیں، وہ اس کی حفاظت خود یقینی بنائیں۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔