اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اپنے فوجی مقاصد کے قریب پہنچ چکا ہے
اور خطے میں اپنا براہِ راست کردار کم کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ کینیڈا سمیت 20 سے زائد ممالک نے ایران کی حالیہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اہم فوجی اہداف کے حصول کے بہت قریب ہے۔ ان اہداف میں ایران کے میزائل پروگرام کو کمزور کرنا، اس کی دفاعی صنعت کو نقصان پہنچانا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب نہیں آنے دے گا اور ضرورت پڑنے پر فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیے تیار رہے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کی ذمہ داری اب ان ممالک کو سنبھالنی چاہیے جو اس اہم گزرگاہ کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا معاونت فراہم کرے گا، مگر براہِ راست ذمہ داری کم کر سکتا ہے۔
دوسری جانب کینیڈا اور اس کے اتحادی ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ غیر مسلح تجارتی جہازوں پر حملے کر رہا ہے، شہری انفراسٹرکچر بشمول تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے اور مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر چکا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اقدامات عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، اور ایران فوری طور پر ڈرونز، میزائلز اور بحری بارودی سرنگوں کے استعمال سمیت تمام حملے بند کرے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث کئی ممالک کے شہری متاثر ہوئے، جن میں کینیڈا کے شہری بھی شامل ہیں جو ایک کارگو جہاز پر کئی ہفتوں تک پھنسے رہے تھے۔
ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بینیٹ نے اعلان کیا کہ امریکا اس بحران کے معاشی اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران کو عالمی دہشت گردی میں مرکزی کردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی فوجی اور اقتصادی حکمت عملی کو تیز کر رہا ہے۔