1979 کے تیل بحران کی یاد تازہ، کینیڈا میں پیٹرول راشننگ کی تیاریوں کا انکشاف

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں

ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ کینیڈا نے ماضی میں 1979 کے عالمی تیل بحران کے دوران پیٹرول کی راشننگ کے لیے باقاعدہ اسٹیمپس (کوپن) تیار کر لیے تھے، تاہم انہیں کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بحران ایرانی انقلاب کے بعد پیدا ہوا تھا، جب عالمی سطح پر تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی اور قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ اس صورتحال میں دنیا بھر کے صارفین نے گھبراہٹ میں پیٹرول ذخیرہ کرنا شروع کر دیا تھا، جس سے طلب میں مزید اضافہ ہوا۔
کینیڈا کے ماہرِ توانائی پیٹر ٹیرتزاکیان نے حال ہی میں Natural Resources Canada کے آرکائیوز میں ان نایاب اسٹیمپس کے نمونے دیکھے، جنہیں دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ ان اسٹیمپس کے ذریعے ہر شہری کو 50 لیٹر پیٹرول حاصل کرنے کی اجازت دی جانی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس ممکنہ راشننگ نظام کا مقصد ضروری خدمات جیسے ایمبولینس، کسانوں اور دیگر اہم شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر ایندھن فراہم کرنا تھا، جبکہ عام شہریوں کے لیے محدود مقدار مقرر کی جانی تھی تاکہ سب کو برابر رسائی مل سکے۔ اگرچہ اس وقت کینیڈین حکومت نے یہ نظام نافذ نہیں کیا کیونکہ تیل کی فراہمی بعد میں بہتر ہو گئی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ شدید بحران کی صورت میں غیر معمولی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین موجودہ صورتحال اور 1970 کی دہائی کے بحران کے درمیان مماثلت بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج بھی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز میں خلل، عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کینیڈا میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 1.68 ڈالر فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ مہینے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے یا قیمتیں 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں تو کینیڈا میں بھی پیٹرول راشننگ جیسے اقدامات دوبارہ زیر غور آ سکتے ہیں۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1970 کی دہائی میں OPEC کے بعض عرب ممالک نے امریکا کو تیل کی فراہمی محدود کر دی تھی، جس کی ایک بڑی وجہ یوم کپور جنگ میں امریکا کی اسرائیل حمایت تھی۔ اس کے نتیجے میں امریکا میں طویل قطاریں، ایندھن کی قلت اور “odd-even” راشننگ سسٹم نافذ کرنا پڑا۔
اگرچہ کینیڈا نے اس دور میں باضابطہ راشننگ نافذ نہیں کی، لیکن پارلیمنٹ نے ہنگامی صورتحال کے لیے قانون سازی ضرور کی تھی تاکہ ضرورت پڑنے پر ایندھن کی تقسیم کو کنٹرول کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق آج کی عالمی معیشت ماضی کے مقابلے میں تیل پر زیادہ انحصار کرتی ہے، اس لیے کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
موجودہ حالات میں اگرچہ کینیڈا میں فوری طور پر راشننگ کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی خدشات نے عوام اور حکومت دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں