اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ اور بالواسطہ رابطوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک پسِ پردہ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات معطل ہو چکے ہیں، تاہم پس پردہ سفارتکاری کا عمل جاری ہے۔ اس عمل میں قطر، مصر اور برطانیہ ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے سامنے چند اہم مطالبات رکھے گئے ہیں، جن میں سرفہرست یورینیم افزودگی (نuclear enrichment) کے پروگرام کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم پانچ سال کے لیے اپنے میزائل پروگرام کو بھی محدود کرے۔
دوسری جانب ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے جنگ کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے ان نقصانات کا ازالہ ضروری ہے۔
رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے منجمد مالی اثاثے بحال کر دے تو ہرجانے کے معاملے پر پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے، جس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کی بالواسطہ سفارتکاری (Backchannel Diplomacy) بین الاقوامی تنازعات میں ایک عام حکمت عملی ہے، جس کے ذریعے ممالک کھلے عام مذاکرات کے بغیر بھی اپنے مؤقف کو آگے بڑھاتے اور ممکنہ حل تلاش کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، لیکن خفیہ رابطوں کا جاری رہنا اس بات کا مثبت اشارہ ہے کہ دونوں ممالک مکمل تصادم سے بچنے اور کسی حد تک مفاہمت کی راہ تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں ان پس پردہ رابطوں کے نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔