اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے
جہاں ایران کی جانب سے کلسٹر وارہیڈز سے لیس میزائلوں کے ذریعے اسرائیل پر ایک نیا حملہ کیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں گاڑیوں اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ سیکیورٹی صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق میزائل حملوں کے بعد کئی مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔ اسرائیلی حکام نے فوری طور پر ہنگامی سروسز کو متحرک کر دیا، جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان محدود بتایا جا رہا ہے، تاہم مادی نقصان خاصا زیادہ ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کلسٹر وارہیڈ میزائل عام میزائلوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ فضا میں پھٹ کر کئی چھوٹے دھماکہ خیز ذرات پھیلاتے ہیں، جو وسیع علاقے کو متاثر کرتے ہیں۔ اس قسم کے ہتھیار شہری علاقوں میں تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔دوسری جانب ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان پر دباؤ بڑھایا گیا یا کسی بھی قسم کی جارحیت جاری رہی تو وہ عالمی تجارت کی اس اہم گزرگاہ کو بند کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
عالمی برادری نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مختلف ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں مزید بدامنی اور انسانی بحران سے بچا جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔صورتحال تاحال غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔