اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں نئے امیگریشن قانون بل C-3 کی منظوری کے بعد امریکی شہریوں کی جانب سے کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قانون نے شہریت کے حصول کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا ہے، جس کے باعث خاص طور پر امریکا میں مقیم افراد کی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔اوٹاوا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس نئے قانون کے تحت اب ان افراد کو بھی کینیڈین شہریت کے لیے اہل قرار دیا جا سکتا ہے جو کینیڈا سے باہر پیدا ہوئے لیکن ان کے والدین یا آباؤ اجداد کینیڈین شہری تھے۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف پہلی نسل تک محدود تھی، تاہم بل C-3 کے تحت اس پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔
امیگریشن وکیل کیسنڈرا فلٹز کے مطابق یہ تبدیلی ایک بڑی پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے ہزاروں ایسے افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو ماضی میں محض قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے شہریت حاصل کرنے سے محروم رہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کا اطلاق خاص طور پر ان افراد پر ہوتا ہے جو 15 دسمبر 2025 تک پیدا ہوئے ہیں، جس کے بعد اہلیت کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بعد امریکا میں رہنے والے ایسے افراد، جن کے خاندانی روابط کینیڈا سے ہیں، بڑی تعداد میں شہریت کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بہتر معاشی مواقع، سماجی سہولیات اور مستحکم طرزِ زندگی کے لیے کینیڈا منتقل ہونا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان نہ صرف کینیڈا کے امیگریشن نظام پر اثر انداز ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان انسانی روابط کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔ دوسری جانب حکام کو بڑھتی ہوئی درخواستوں کے پیشِ نظر پراسیسنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔فی الحال حکومت کی جانب سے درخواستوں کی تعداد کے بارے میں حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم ابتدائی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آنے والے مہینوں میں اس رجحان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔