اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز ) برطانوی شاہی خاندان ایک بار پھر خبروں کی زینت بنا ہوا ہے
جہاں پرنس اینڈریو سے جڑے تنازع کے بعد اب ان کی بیٹیوں شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوجینی کی حیثیت، القابات اور شاہی جانشینی میں مقام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پرنس اینڈریو کے متنازع تعلقات، خصوصاً مرحوم مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ وابستگی کے بعد شاہی خاندان کے دیگر افراد بھی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ اس صورتحال میں ان کی سابق اہلیہ سارہ فرگوسن اور بیٹیاں کافی حد تک عوامی منظر سے دور ہو گئی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس اسکینڈل کے اثرات بیٹریس اور یوجینی کی ذاتی اور عوامی زندگی دونوں پر پڑ رہے ہیں۔ چندریکا کول، جو جدید تاریخ کی پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں کے لیے یہ صورتحال نہایت مشکل ہے کیونکہ ایک طرف وہ اپنے والدین کے تنازع سے متاثر ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ خود کو اس سے الگ بھی رکھنا چاہتی ہیں۔
شہزادی بیٹریس (37 سال) اور شہزادی یوجینی (35 سال) اس وقت برطانوی تخت کی جانشینی کی فہرست میں بالترتیب نویں اور بارہویں نمبر پر ہیں۔ دونوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی خود بنائی ہے اور وہ شاہی خاندان کی باقاعدہ خدمات انجام دینے والی اراکین میں شامل نہیں رہیں۔دونوں بہنیں شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ شاہی نظام سے باہر بھی رہائش رکھتی ہیں۔ بیٹریس لندن کے نواح میں جبکہ یوجینی پرتگال میں قیام پذیر ہیں، تاہم انہیں شاہی رہائش گاہوں تک بھی رسائی حاصل ہے۔شاہی امور کے ماہر جسٹن وووک کے مطابق عوامی سطح پر دونوں بہنوں کے لیے ہمدردی بھی پائی جاتی ہے کیونکہ ان کے خلاف کسی براہِ راست غلط عمل میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ان کے بقول، عوام ان کے والد کے اقدامات کو ان سے الگ کر کے دیکھ رہے ہیں۔تاہم حالیہ دنوں میں ان کے القابات (Princess titles) کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں رضاکارانہ طور پر اپنے القابات ترک کر دینے چاہئیں تاکہ شاہی خاندان کی ساکھ بہتر ہو سکے۔
چندریکا کول کے مطابق اگر بیٹریس اور یوجینی اپنے القابات چھوڑ دیتی ہیں تو یہ اقدام عوام میں مثبت انداز میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مثال زارا ٹنڈال کی دی جاتی ہے، جنہوں نے بغیر کسی شاہی لقب کے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔دوسری جانب یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ مستقبل میں جب شہزادہ ولیم بادشاہ بنیں گے تو وہ شاہی خاندان کو محدود کرنے کے لیے ان جیسے القابات ختم کر سکتے ہیں، جیسا کہ دیگر یورپی بادشاہتوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق پرنس اینڈریو کے القابات واپس لینے کے باوجود ان کی بیٹیوں کے حقوق، بشمول جانشینی اور رہائش، قانونی طور پر برقرار رہتے ہیں۔ تاہم شاہی خاندان کے اندرونی تعلقات اور مستقبل کے فیصلے تاحال غیر واضح ہیں کیونکہ اس حوالے سے باضابطہ بیانات جاری نہیں کیے گئے۔