اردو ورلڈ کینیڈا ( محمد امان اللہ) بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کو امریکہ کی “ماتحت” یا “تابع دار” ریاست قرار دینے کے بیانیے کو ماہرینِ امورِ خارجہ اور دفاعی تجزیہ کاروں نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تاریخی شواہد اور اسٹریٹجک حقائق اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جس نے نہ صرف ایٹمی صلاحیت حاصل کی بلکہ کھلے عام کامیاب ایٹمی تجربات کر کے اپنی دفاعی خودمختاری کا اعلان بھی کیا۔ یہ اقدام کسی تابع ریاست کے بجائے ایک خودمختار ملک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں پاکستان کی سرزمین پر مستقل امریکی فوجی اڈوں کی عدم موجودگی بھی اس تاثر کو کمزور کرتی ہے کہ ملک کسی بیرونی طاقت کے زیرِ اثر ہے۔ بین الاقوامی دفاعی ماہرین بھی متعدد مواقع پر اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان کی عسکری قیادت قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے آزادانہ فیصلے کرتی ہے۔افغانستان کے تناظر میں بعض امریکی تجزیہ کاروں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکہ کے اہداف کے حصول میں ناکامی کی ایک وجہ پاکستان کی اپنی اسٹریٹجک ترجیحات اور فیصلے تھے، جو ہر وقت واشنگٹن کی پالیسی سے ہم آہنگ نہیں رہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کئی مواقع پر امریکہ سے واضح اختلافات بھی دیکھنے میں آئے۔ بعض الزامات، مثلاً ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری تعاون، چاہے متنازع ہی کیوں نہ ہوں، اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان نے بعض معاملات میں خودمختار راستہ اختیار کیا۔
علاقائی سطح پر بھی پاکستان نے ایسے چیلنجز کا سامنا کیا جن میں بعض حریف ممالک کو امریکہ کی حمایت حاصل سمجھی جاتی رہی، خاص طور پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے تناظر میں۔ اس کے برعکس، پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کیا، جو اس کی آزاد خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین، حتیٰ کہ بعض بھارتی دفاعی تجزیہ کار بھی، پاکستان کی فوج کو ایک منظم اور مؤثر ادارہ قرار دیتے ہیں جو ملک کے استحکام اور یکجہتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کو محض ایک امریکی “پراکسی” کے طور پر پیش کرنا نہ صرف حقیقت کے برعکس ہے بلکہ عالمی سیاست کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں سے اختلاف ممکن ہے، مگر انہیں خودمختار فیصلوں کے تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔تجزیہ کاروں نے زور دیا کہ سنجیدہ مکالمے کے لیے ضروری ہے کہ نعروں سے ہٹ کر زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے، کیونکہ پاکستان کی پالیسیوں میں واضح طور پر اسٹریٹجک خودمختاری کا عنصر نمایاں ہے، نہ کہ کسی بیرونی طاقت کی تابع داری۔