اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کی جانب سے اچانک مذاکرات اور جنگ بندی کی بات سامنے آنے پر عالمی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا یہ فیصلہ کسی طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ چند اہم واقعات اور دباؤ کے بعد سامنے آیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے جب ٹرمپ فلوریڈا روانہ ہو رہے تھے تو اس وقت ان کا مؤقف انتہائی سخت تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ جب آپ دشمن کو نقصان پہنچا رہے ہوں تو ایسے وقت میں سیزفائر نہیں کیا جاتا۔ تاہم اس بیان کے چند ہی دن بعد صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی اور انہوں نے ایران کے ساتھ معاملات حل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں ایک اہم وجہ خلیجی اتحادی ممالک کی جانب سے دی جانے والی سخت وارننگز ہیں، جن میں کہا گیا تھا کہ اگر ایران کے توانائی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے اور عالمی معیشت کیلئے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان خدشات نے واشنگٹن کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا۔
مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے تین روز کے وقفے کے دوران ایران کے ایک پراسرار شخصیت سے پس پردہ رابطہ کیا، جس کے بعد ان کی سوچ میں واضح نرمی آئی۔ اس خفیہ رابطے کو امریکی پالیسی میں تبدیلی کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ اس شخصیت کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں۔
معاشی عوامل بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے اعلان کا وقت بھی غیر معمولی تھا، کیونکہ یہ اعلان امریکی اسٹاک مارکیٹ کھلنے سے کچھ دیر پہلے کیا گیا، جس کے نتیجے میں وال اسٹریٹ میں تیزی دیکھی گئی جبکہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی آئی۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی دباؤ اور مارکیٹ کے ردعمل نے بھی ٹرمپ اور ان کے مشیروں کو متاثر کیا۔
ادھر ٹرمپ نے ٹینیسی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تنازع کو حل کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشیدگی کو کم کیا جائے اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔دوسری جانب سفارتی سطح پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ ملاقات میں امریکی نائب صدر **جے ڈی وینس** کی شرکت بھی متوقع ہے، جس سے اس عمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
تاہم ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت کسی قسم کے باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے بیانات کا مقصد وقت حاصل کرنا اور اپنے اسٹریٹجک اہداف کو آگے بڑھانا ہے۔ ایران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات ہوئے بھی تو وہ مخصوص شرائط کے تحت ہی ممکن ہوں گے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے روکنے کا عارضی اعلان بھی سامنے آیا تھا، جسے کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے، جہاں ایک طرف جنگی ماحول برقرار ہے تو دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔