اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اوٹاوا سے سامنے آنے والی سرکاری دستاویزات نے کینیڈا کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران چینی قیادت کے ساتھ ملاقات میں انسانی حقوق اور غیر ملکی مداخلت جیسے حساس معاملات کو براہ راست نہیں اٹھایا۔رپورٹ کے مطابق جنوری میں بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران مارک کارنی نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مختلف امور پر گفتگو کی، تاہم سرکاری ریکارڈ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے انسانی حقوق کے معاملات کو “فعال طریقے سے” زیرِ بحث نہیں لایا۔ اس انکشاف نے سیاسی حلقوں میں سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا کینیڈا نے چین کے ساتھ تعلقات میں نرمی اختیار کر لی ہے۔
دستاویزات، جو کہ پریوی کونسل آفس کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئیں، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اگرچہ وزیراعظم نے ان حساس موضوعات پر براہ راست گفتگو نہیں کی، لیکن کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں انسانی حقوق اور غیر ملکی مداخلت جیسے اہم معاملات کو اٹھایا۔
یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نیڈ کوروک نے حکومت سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی، جس کے جواب میں یہ دستاویزات فراہم کی گئیں۔ اپوزیشن حلقے اس پیش رفت کو کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور حکومت پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ چین کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم مارک کارنی پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ کینیڈا انسانی حقوق کے معاملات کو عموماً بند کمرے میں، سفارتی سطح پر اٹھاتا ہے نہ کہ عوامی بیانات کے ذریعے۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار سے زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کینیڈا اور چین کے تعلقات کے تناظر میں نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ ایک طرف اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق جیسے اصولی مؤقف کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کینیڈا کو چین کے حوالے سے کس حد تک سخت یا نرم پالیسی اپنانی چاہیے۔