اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اوٹاوا امریکی حکام کے ساتھ “مکمل تعاون” کر رہا ہے تاکہ اتوار کی رات نیویارک کے لاگارڈیا ایئرپورٹ پر پیش آنے والے ایئر کینیڈا کے طیارہ حادثے کی تحقیقات مکمل کی جا سکیں، جس میں دو پائلٹس ہلاک ہوئے۔
کارنی نے بدھ کے روز لبرل ارکان کی میٹنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کا “پہلا فرض” امریکی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر یہ جاننا ہے کہ یہ المیہ کیسے پیش آیا اور مستقبل میں اس کے دوبارہ ہونے کو روکنے کے تمام اقدامات کرنا ہے۔
ایئر کینیڈا نے بدھ کی شام اپ ڈیٹ میں کہا کہ طیارہ جلد ہی ہینگر میں منتقل کیا جائے گا تاکہ عملہ اس کے سامان اور ذاتی اشیاء کو ترتیب دینے کا طویل عمل شروع کر سکے۔ ایئر لائن کے مطابق طیارے میں 72 مسافر اور چار عملے کے ارکان سوار تھے، جبکہ بدھ تک چار افراد اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
یہ بھی پڑھیں :شمالی کیرولینا میں طیارہ حادثہ، ہلاکتوں کا خدشہ، فضائی تحفظ پر سو لیہ نشان
امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے مطابق فائر ٹرک کو لاگارڈیا پر ایک مختلف طیارے کی مدد کے لیے رن وے عبور کرنے کی اجازت دی گئی تھی، اور حادثے سے صرف 20 سیکنڈ پہلے وہ ایئر کینیڈا کے طیارے سے ٹکرایا۔ بورڈ کی سربراہ جینیفر ہومندی نے کہا کہ رن وے وارننگ سسٹم مطلوبہ طور پر کام نہیں کر سکا کیونکہ فائر ٹرک میں ٹرانسپونڈر موجود نہیں تھا۔
این ٹی ایس بی نے بدھ کے روز میڈیا بیان میں کہا کہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ 30 دن کے اندر شائع کی جائے گی، جبکہ حتمی رپورٹ جس میں ممکنہ وجوہات اور معاون عوامل شامل ہوں گے، 12 سے 24 ماہ میں متوقع ہے۔
کینیڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ بھی امریکی قیادت میں جاری تحقیقات میں حصہ لے رہا ہے۔ بورڈ کے ترجمان ہیوگو فونٹین کے مطابق ادارے کے تین تفتیش کار منگل کو نیویارک پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ “ہم نے ایک مستند نمائندہ مقرر کیا ہے اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی قیادت میں جاری تحقیقات کی معاونت کر رہے ہیں، بشمول کینیڈا سے متعلق تکنیکی اور حفاظتی معلومات کے تبادلے کی ہم آہنگی۔”
کارنی نے بدھ کو پائلٹس آنتوان فاریسٹ اور میکنزی گنتھر کے اہل خانہ اور دوستوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ ان کے “عمل سے زندگیاں بچیں۔