اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے اکتوبر میں صوبائی علیحدگی کے ریفرنڈم کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، جس کے بعد آزادی کے حامی رہنماؤں نے ان پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا ہے۔
ڈینیئل اسمتھ نے پیر کے روز اس سوال پر واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ آیا وہ علیحدگی کے حق میں ووٹنگ کرانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال نہیں کریں گی۔
انہوں نے کہا، “ہم ابھی چند معاملات کا انتظار کر رہے ہیں، بعد میں کابینہ اور پارٹی ارکان کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، اس لیے فی الحال عمل کو مکمل ہونے دینا ضروری ہے۔”
علیحدگی پسند رہنما جیف راتھ اور مچ سلویسٹر نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکمران جماعت کی رکنیت حاصل کریں تاکہ ڈینیئل اسمتھ پر دباؤ ڈالا جا سکے اور علیحدگی کا سوال پارٹی بیلٹ پر شامل کیا جا سکے۔
اس معاملے پر صوبائی وزراء میں اختلاف سامنے آگیا ہے۔ وزیرِ خزانہ نیٹ ہورنر نے کہا کہ وہ اس خیال کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کے مطابق وہ پہلے بھی علیحدگی پسند امیدواروں کے خلاف انتخابات لڑ چکے ہیں اور ان کے نزدیک ایسا ریفرنڈم مناسب نہیں۔
اسی طرح اسپتالوں کے وزیر میٹ جونز نے بھی کہا کہ حکمران جماعت علیحدگی پسند جماعت نہیں اور اس کی ترجیح متحدہ کینیڈا کے اندر مضبوط البرٹا ہونا چاہیے۔
دوسری جانب علیحدگی کے حامی منتظمین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے انتخابات حکام کو تین لاکھ دستخطوں پر مشتمل درخواست جمع کرا دی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان دستخطوں کی تصدیق کب یا کیسے ہوگی۔
فرسٹ نیشنز کی جانب سے عدالتی چیلنج کے بعد ایک حکمِ امتناع جاری کیا گیا ہے جس کے باعث دستخطوں کی گنتی روک دی گئی ہے۔ جیف راتھ نے عدالتوں پر عمل میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اس معاملے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
اپوزیشن جماعت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ریفرنڈم نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب تقریباً تیس لاکھ ووٹرز کے اعداد و شمار کے افشا ہونے کا معاملہ سامنے آچکا ہے۔
نائب رہنما راکھی پنچولی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں نہ تو ریفرنڈم کے نتائج پر اعتماد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس درخواست پر جس کی بنیاد پر یہ عمل شروع کیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈینیئل اسمتھ گزشتہ ایک سال سے علیحدگی کی تحریک کو تقویت دینے میں کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ ان کے قریبی حامی ووٹرز کی ذاتی معلومات کے غیر معمولی افشا میں بھی ملوث رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار ڈوین بریٹ کا کہنا ہے کہ ڈینیئل اسمتھ ممکنہ طور پر پارٹی اتحاد برقرار رکھنے کے لیے ریفرنڈم کی اجازت دے سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ نظریاتی وابستگی نہیں بلکہ پارٹی کے اندر علیحدگی پسند دھڑے کو متحد رکھنا ہے۔
جیف راتھ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگست میں علیحدگی کے معاملے پر خصوصی جنرل اجلاس بلانے کی کوشش کریں گے۔