تحریر یاور مہدی
یوں تو لاڈ پیار اور والدین کی ڈانٹ کے دھندلے سے مناظر چار پانچ سال کی عمر کے بھی یاد ہیں، مگر میں اپنے اس کالم کا آغاز شعور کی پہلی دہلیز یعنی ‘کچی پکی’ جماعت کی یادوں سے کر رہا ہوں۔
وہ دور بھی کیا تھا! کاپی اور پنسل کا وہ سادہ سا سازوسامان، گاڑھی سیاہی کی مٹیالی دوات اور سرکنڈے کا وہ قلم جس کی تراش پر ہماری لکھائی کا سارا دارومدار تھا ۔ یہی ہماری کل کائنات ہوا کرتی تھی۔ وہ حروفِ تہجی کا قاعدہ، ‘الف’ سے انار اور ‘ب’ سے بکری کا سبق۔
مگر ذرا ٹھہریے! نصاب کا وہ تضاد تو دیکھیے جو گھر سے سکول تک کے پہلے ہی سفر میں یکدم بدل گیا۔ ہمیں گھر میں سکھایا گیا تھا کہ ‘الف’ سے ‘اللہ’ اور ‘ب’ سے ‘بابا’ ہوتا ہے، مگر سکول پہنچتے ہی کاپی کے اوراق پر ‘اللہ’ کی جگہ ‘انار’ اور ‘بابا’ کی جگہ ‘بکری’ نے لے لی۔ بس یہیں سے اس ‘جدت’ کا آغاز ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے نظام میں ایک ناسور بن کر بڑھتی جا رہی ہے۔
رفتہ رفتہ یہ سفر سکول سے کالج، یونیورسٹی اور عملی میدان میں لے آیا۔ اور چند سالوں کی محنت… نہیں، یہاں میں یہ کہوں تو بہتر ہوگا کہ قسمت سے ایک سرکاری افسر بن گئے اور آج مارچ 2026 میں ریٹائرمنٹ کی تیسری سالگرہ پر آزادی سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ اب مجھے کچھ کرنا ہے جو پہلے
“رولز، ریگولیشنز، اپروول اور پینڈنگ کی زنجیروں سے ہٹ کر ہو…”
اور اب دوست احباب محفل جماتے ہیں تو سوالوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں: "یار! اس طویل مسافت میں کیا دیکھا؟”، "سب سے اچھا حکمران کون تھا؟”، "کس نے کیا گل کھلائے اور کس نے نظام کی جڑیں کاٹیں؟”
ان سوالوں کے جواب میں، میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس پورے نظام کو، اس کی تلخیوں اور رعنائیوں سمیت، اسی حروفِ تہجی کی لڑی میں پرو کر آپ کے سامنے رکھ دوں جس سے بچپن میں ہمارا پالا پڑا تھا۔
لیکن پہلے، ایک بات:
کیا آپ کو وہ حروفِ تہجی مکمل یاد ہیں؟
آئیے، زرا لکھ کر دکھائیں — ‘الف’ سے لے کر ‘ی’ تک۔
جی ہم، ہم میں سے زیادہ تر اپنی زبان کے حروفِ تہجی بھول چکے ہیں، اور فرنگی زبان کے حروف ازبر یاد ہیں۔
سچ تو یہ ہے اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں کہ وہ حروفِ تہجی جو میری مادری زبان ہیں، آج جب میں خود بھی انہیں لکھنے بیٹھتا ہوں تو قلم میں
بچپن والی روانی باقی نہیں رہی۔
“لیکن دوسری طرف فرنگی، یعنی انگریزی زبان ہے، جسے ہم نے ‘اے ٹو زیڈ’ نہ صرف حفظ کر رکھا، بلکہ اس کا تلفظ اور ایکسنٹ بھی ایسا نکھارا کہ ‘Z’، ‘زی’ بن گئی اور ‘P’ اور ‘G’ کی ادائیگی بھی خاص انداز اختیار کر گئی۔”
اب آپ خود دیکھیں! یہ سوہنی دھرتی ہے جس میں ہم 79 سالوں میں اردو زبان کو رائج نہ کر سکے۔ اور اب تو آنے والی نسلیں ‘الف’ سے ‘اللہ’ بھی بھولتی جا رہی ہیں، مگر ‘اے’ سے ‘ایپل’ اور ‘بی’ سے بیوروکریسی ہمیں ایسے ازبر ہوئے کہ آج پورا نظام اسی اشرافیہ کی گرفت میں ہے۔”
تو آئیے، میرے ساتھ اس سفر پر، جہاں میں ‘الف’ سے ‘ی’ تک کی وہ داستان بیان کروں گا جو آپ کو کسی سرکاری گزٹ میں نہیں ملے گی۔
‘الف’ کی اس پہلی گرہ کو پڑھنے کے لیے اگلے کالم کا انتظار کریں۔