اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) عالمی معاشی دباؤ، امریکا کی تجارتی پالیسیوں اور بدلتی عالمی صورتحال کے پیش نظر کینیڈا نے اپنی معاشی سمت اور مستقبل کا لائحہ عمل واضح کر دیا ہے۔
ٹورنٹو میں ہونے والی عالمی ترقیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی بحرانوں کے دور میں کینیڈا کو دوبارہ خطرات مول لینے اور بڑے اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ کانفرنس ٹورنٹو میں منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر سے سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی معیشت، جمہوری نظام، بین الاقوامی تعاون، جدید ٹیکنالوجی اور معیشت کے ڈیجیٹل نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اس موقع پر کینیڈا کی کابینہ کے اہم ارکان بھی موجود تھے جن میں وزیر صنعت میلانی جولی، وزیر خارجہ انیتا آنند اور وزیر خزانہ فرانسوا فلیپ شامپین شامل تھے۔ سابق امریکی صدر براک اوباما کی شرکت نے بھی اس اجلاس کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
ابتدائی نشست میں میلانی جولی نے سابق امریکی وزیر ٹرانسپورٹ پیٹ بٹیگیگ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی اندرونی پالیسیوں کے اثرات صرف اسی ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بڑے ملک کا جمہوری نظام کمزور ہو تو اس کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پہنچتے ہیں۔
وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ امریکا اور کینیڈا کے تعلقات ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام مستقبل میں بھی مشترکہ ترقی کے خواہاں ہیں، تاہم موجودہ عالمی تجارتی بحران کے باعث کینیڈا کو اپنی تجارت کو دیگر ممالک تک پھیلانا ہوگا تاکہ معاشی خطرات کم کیے جا سکیں۔
بعد میں وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کینیڈا کا تجارتی نظام اب بھی مضبوط ہے اور زیادہ تر اشیا بغیر کسی اضافی ٹیکس کے سرحد پار جاتی ہیں۔ لیکن اگر امریکا کے ساتھ مزید قریبی معاشی تعاون ممکن نہ ہوا تو کینیڈا دیگر ممالک اور نئی منڈیوں میں سرمایہ کاری بڑھائے گا۔