اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی حکومت نے عوامی درخواستوں، منتخب نمائندوں کی برطرفی، سرکاری تنخواہوں کی تفصیلات اور انتخابی عمل سے متعلق قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیرِ انصاف مکی ایمری نے ان مجوزہ ترامیم کو ایک جامع قانون سازی پیکج کے طور پر پیش کیا۔
شہری اقدام قانون میں تبدیلیاں
حکومت نے شہریوں کی جانب سے شروع کی جانے والی عوامی درخواستوں کے طریقہ کار میں نمایاں رد و بدل تجویز کیا ہے۔ نئی تجاویز کے مطابق عام انتخابات سے بارہ ماہ پہلے اور بارہ ماہ بعد تک کسی نئی عوامی درخواست کو شروع یا جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ کامیاب عوامی ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے مقررہ وقت کی پابندی کو بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ حکومت اپنی سہولت کے مطابق وقت کا تعین کر سکے۔
وزیرِ انصاف کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد انتخابی عمل اور عوامی اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے تاکہ ووٹرز انتخابات کے دوران مکمل توجہ انتخابی معاملات پر مرکوز رکھ سکیں۔
مزید برآں دستخطوں کی جانچ کے عمل میں شفافیت بڑھانے کے لیے نگران مقرر کرنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ کامیاب درخواستوں کے دستخط دو سال تک محفوظ رکھے جائیں گے۔
ماہرین کی تشویش
ماؤنٹ رائل یونیورسٹی سے وابستہ ماہر لوری ولیمز نے ان تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے ہی کئی بار قوانین میں رد و بدل کر چکی ہے اور اس سے انتخابی اداروں کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
منتخب نمائندوں کی برطرفی کا قانون
منتخب نمائندوں کو ہٹانے کے عمل سے متعلق قانون میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ نئی شقوں کے مطابق درخواست گزار اور متعلقہ رکن اسمبلی دونوں کو دستخطوں کی تصدیق کے عمل کی نگرانی کے لیے نمائندے مقرر کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس کے علاوہ کامیاب درخواست کی صورت میں دستخطوں کو ووٹنگ مکمل ہونے تک محفوظ رکھا جائے گا۔
انتخابی دھوکہ دہی پر سخت کارروائی
حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائے گئے جعلی مواد کے خطرے کے پیش نظر سخت اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ان کے تحت ایسے ڈیجیٹل مواد کی تیاری یا پھیلاؤ غیر قانونی قرار دیا جائے گا جو کسی سیاسی رہنما یا امیدوار کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا کرے۔
خلاف ورزی کرنے والے افراد پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے، جن میں افراد کے لیے دس ہزار اور گروہوں کے لیے ایک لاکھ تک جرمانہ شامل ہو سکتا ہے۔
سرکاری تنخواہوں میں شفافیت
حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات ظاہر کرنے کی حد کو کم کرنے کی بھی تجویز دی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات عوام کے سامنے آ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ برخاستگی کے معاوضے کی رپورٹنگ کو سال میں ایک بار تک محدود کرنے کی تجویز ہے۔
حکومت کا مؤقف
وزیرِ انصاف کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانا اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق ایک مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جس میں تمام طبقات کی آواز شامل ہو اور نظام کھلے اور قابلِ اعتماد طریقے سے کام کرے۔