اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں علیحدگی سے متعلق عوامی ریفرنڈم کی درخواست عدالت نے خارج کر دی، جس کے بعد صوبے کی سیاست میں شدید ہلچل پیدا ہوگئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ صوبائی حکومت نے مقامی قبائل سے مشاورت کیے بغیر ریفرنڈم کے عمل کو آگے بڑھایا، جو آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کی جج شائنا لیونارڈ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صوبے کی ممکنہ علیحدگی مقامی قبائل کے تاریخی معاہدوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے حکومت پر لازم تھا کہ وہ پہلے متعلقہ قبائل سے باضابطہ مشاورت کرتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ انتخابی افسر کو ابتدا ہی میں اس درخواست کی منظوری نہیں دینی چاہیے تھی۔
صوبائی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے فیصلے کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت اس کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں شہریوں کی رائے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور حکومت جلد آئندہ حکمتِ عملی طے کرے گی۔
علیحدگی کی حمایت کرنے والی تنظیم اسٹی فری البرٹا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مطلوبہ تعداد سے کہیں زیادہ دستخط جمع کیے ہیں۔ تنظیم کے نمائندوں نے بھی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دسمبر میں منظور کیے گئے قانون کے ذریعے ریفرنڈم کے سوالات کے آئینی جائزے کی شرط ختم کر دی گئی تھی اور درخواست دوبارہ جمع کرانے کی اجازت بھی دی گئی، تاہم مقامی قبائل سے مشاورت نہ کرنا آئینی خلاف ورزی تھی۔
یہ مقدمہ ایتھاباسکا چیپیوین فرسٹ نیشن اور بلیک فٹ کنفیڈریشن کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ درخواست گزار قبائل کا مؤقف تھا کہ صوبے کی علیحدگی ان کے تاریخی معاہدوں اور آئینی حقوق کو متاثر کرے گی۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما نہید نینشی نے وزیرِاعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو مزید نہ بڑھائیں اور عوامی وسائل اس تنازع پر خرچ کرنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔