اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں ایک نیا فضائی بحران پیدا ہوگیا ہے
جس کے باعث بین الاقوامی پروازوں کے روٹس بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کی کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھنے پر متعدد ایئرلائنز نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز شروع کردیا ہے۔ اس پیشرفت کے نتیجے میں پروازوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ اور اخراجات دونوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
خصوصی طور پر پاکستان سے آنے اور جانے والی پروازیں اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستانی ایئرلائنز اب امارات کی فضائی حدود سے گزرنے کے بجائے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کر رہی ہیں۔ یہ پروازیں سعودی عرب کے مغربی اور جنوبی راستوں سے گزرتے ہوئے عمان میں داخل ہوتی ہیں اور پھر مسقط کے راستے اپنے روایتی فضائی روٹ پر آتی ہیں۔
اس تبدیلی کے باعث مختلف روٹس کے دورانیے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر دمام سے اسلام آباد آنے والی پروازوں کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ 40 منٹ بڑھ گیا ہے، جبکہ دمام سے ملتان اور لاہور جانے والی پروازوں کو بھی معمول سے ڈیڑھ گھنٹہ زیادہ وقت درکار ہے۔
اسی طرح دبئی، ابوظہبی اور شارجہ سے پاکستان آنے والی پروازوں کے دورانیے میں تقریباً 15 منٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ جدہ اور ریاض سے روانہ ہونے والی پروازیں بھی اوسطاً 25 منٹ اضافی وقت لے رہی ہیں۔ مزید برآں مدینہ سے اسلام آباد آنے والی پروازوں کو بھی تقریباً 35 منٹ زیادہ سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق فضائی راستوں میں اس تبدیلی کے باعث نہ صرف سفر کا دورانیہ بڑھا ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات میں اضافے کے سبب ایئرلائنز کو لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں ٹکٹوں کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔