اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب لبرل جماعت نے پیر کی رات ہونے والے ضمنی انتخابات میں تینوں نشستیں جیت کر اپنی اکثریت مزید مستحکم کر لی۔ اس کامیابی کے بعد وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کو پارلیمان میں مزید مضبوط پوزیشن حاصل ہو گئی ہے۔
ان تین میں سے دو نشستوں پر کامیابی ٹورنٹو کے علاقے میں جلد سامنے آ گئی، تاہم سب سے سخت مقابلہ صوبہ کیوبیک کے علاقے تیربون میں دیکھنے میں آیا۔ یہاں لبرل امیدوار تاتیانا اوگوستے نے بلاک کیوبیکوا کی موجودہ رکن ناتھالی سنکلیئر دیساگنے کو محض سات سو اکتیس ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
سیاسی تجزیہ کار کریم بولوس کے مطابق اس کامیابی سے وزیراعظم مارک کارنی کو پارلیمان میں مزید سہولت حاصل ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اگر کسی رکن کی غیر موجودگی بھی ہو تو حکومت کے قوانین اور منصوبوں کو خطرہ لاحق نہیں ہوگا، کیونکہ نشستوں کی تعداد محفوظ حد میں آ گئی ہے۔
تیربون میں ووٹنگ کا تناسب تقریباً پچاس فیصد رہا، جس میں ابتدائی ووٹنگ کا کردار نمایاں تھا۔ یہ ضمنی انتخاب اس وقت منعقد ہوا جب سپریم کورٹ نے پہلے نتیجے کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس میں اوگوستے محض ایک ووٹ سے کامیاب ہوئی تھیں۔
اس انتخاب کے بعد کیوبیک کی سیاست میں بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق کیوبیک کی موجودہ حکمران جماعت کاک پارٹی کی مقبولیت کم ہو کر تیرہ فیصد رہ گئی ہے، جبکہ لبرل جماعت اور پارٹی کیوبیکوا دونوں تیس فیصد سے کچھ زائد حمایت کے ساتھ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
ماہرین کے مطابق تیربون جیسے علاقے میں، جو ماضی میں بلاک کیوبیکوا کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا، لبرل جماعت کی کامیابی آئندہ صوبائی انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ کریم بولوس کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی تبدیل کریں گی اور ممکن ہے کہ وفاقی سطح کے اثرات صوبائی سیاست میں بھی نظر آئیں۔
عوامی سطح پر بھی اس تبدیلی کو محسوس کیا جا رہا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بار انتخابات میں غیر متوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ کچھ افراد نے وزیراعظم مارک کارنی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایک شہری کے مطابق موجودہ عالمی حالات، خصوصاً امریکا کی سیاست، ووٹرز کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لبرل جماعت کی حالیہ کامیابی نہ صرف وفاقی حکومت کو مزید مستحکم کر رہی ہے بلکہ کیوبیک سمیت پورے ملک کی سیاسی فضا کو بھی نئی سمت دے رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔