اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود صوبہ البرٹا کی حکومت نے فی الحال اپنے ایندھن ٹیکس کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حالانکہ وفاقی سطح پر وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی اور عوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
صوبائی وزیر خزانہ نیٹ ہورنر نے واضح کیا کہ وہ وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں، مگر صوبہ موجودہ پالیسی پر کم از کم جولائی تک قائم رہے گا۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں غیر یقینی اور تیزی سے بدلنے والی ہیں، اس لیے فوری ردِعمل دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں عمومی سیلز ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو پہلے ہی کچھ حد تک ریلیف حاصل ہے، جبکہ وفاقی سطح پر اب بھی ایندھن پر ٹیکس موجود ہے۔
البرٹا کے موجودہ ریلیف پروگرام کے تحت اگر خام تیل کی اوسط قیمت نوّے امریکی ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ برقرار رہتی ہے تو پٹرول پر تیرہ سینٹ فی لیٹر کا صوبائی ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ منگل کے روز یہ قیمت اسی حد کے آس پاس رہی، جس سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مہینوں میں کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔
دوسری جانب حزبِ اختلاف کے رہنما نہید نینشی نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایندھن ٹیکس ختم کیا جائے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں پٹرول کی قیمت میں چالیس سینٹ فی لیٹر تک اضافہ ہو چکا ہے، جو ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اضافی آمدنی کو عوام پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ دو ہزار پچیس تا چھبیس کے بجٹ میں تقریباً نو اعشاریہ چار ارب ڈالر خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد خام تیل کی اوسط قیمت ساٹھ اعشاریہ پچاس ڈالر فی بیرل رکھی گئی تھی۔ تاہم موجودہ بلند قیمتوں کے باعث صوبے کی آمدنی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ ہر ایک ڈالر اضافے سے صوبے کو تقریباً چھ سو اسی ملین ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت پہلے ہی انکم ٹیکس میں کمی کر چکی ہے، جس سے دوہری آمدنی والے گھرانوں کو سالانہ تقریباً پندرہ سو ڈالر کی بچت ہو رہی ہے، جو ایندھن ٹیکس میں کمی سے ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر اضافی آمدنی حاصل ہوئی تو اس کا کچھ حصہ عوام کو واپس کیا جائے گا۔
ادھر وفاقی حکومت کی جانب سے ایندھن پر عائد ٹیکس میں عارضی کمی سے شہریوں کو پٹرول پر تقریباً دس سینٹ اور ڈیزل پر چار سینٹ فی لیٹر تک ریلیف ملنے کی توقع ہے، جو یومِ محنت تک جاری رہے گا۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں پٹرول کی اوسط قیمت ایک ڈالر تہتر سینٹ فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چالیس سینٹ زیادہ ہے