اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اٹھائیس اپریل کو بہاری معاشی جائزہ پیش کیا جائے گا، جس میں حالیہ عالمی حالات خصوصاً ایران سے متعلق کشیدگی اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات کا تفصیلی احاطہ کیا جائے گا۔ یہ اعلان وزیر خزانہ فرانسوا فلیپ شامپین نے پارلیمان میں گفتگو کے دوران کیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس جائزے میں نہ صرف موجودہ مالی صورتحال واضح کی جائے گی بلکہ عوام، صنعت اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل بھی پیش کیا جائے گا تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
نومبر دو ہزار پچیس میں پیش کیے گئے بجٹ میں، جو وزیر اعظم مارک کارنی کی قیادت میں پہلا بجٹ تھا، مالی خسارہ تقریباً اٹھہتر ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ آئندہ برسوں میں خسارے کو بتدریج کم کرنے کا ہدف بھی رکھا گیا تھا۔
وزیر اعظم مارک کارنی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مالیاتی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔ ان میں حکومتی اخراجات میں کمی، دفاعی شعبے، بنیادی ڈھانچے اور رہائشی منصوبوں پر زیادہ سرمایہ کاری شامل ہے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے اور بیرونی انحصار کم ہو۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ آئندہ تین برسوں میں بجٹ کے انتظامی حصے کو متوازن کیا جائے گا، جبکہ مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں خسارے کو کم کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔ تاہم کچھ ماہرین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ قرض اور قومی پیداوار کے تناسب کو مرکزی ہدف کے طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری اور فروری میں معیشت میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے کے اندازوں کے مطابق کینیڈا کی معیشت ترقی یافتہ ممالک میں نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہے۔ گزشتہ سال معاشی ترقی کی شرح ایک اعشاریہ سات فیصد رہی، جبکہ آئندہ سال کے لیے ایک اعشاریہ پانچ فیصد اور اس کے بعد ایک اعشاریہ نو فیصد اضافے کی توقع ہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ایک طرف عوام پر ایندھن کی مد میں بوجھ بڑھ رہا ہے اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ دوسری جانب تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں آمدنی میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو بلند قیمتیں وقتی فائدے کے بجائے معیشت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس بہاری معاشی جائزے میں حالیہ حکومتی اقدامات بھی شامل ہوں گے، جن میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے سیلز ٹیکس میں سہولت اور یومِ محنت تک ایندھن پر وفاقی ٹیکس کی عارضی معطلی جیسے فیصلے شامل ہیں۔
مجموعی طور پر یہ جائزہ نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے واضح ہوگا کہ حکومت موجودہ عالمی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اور عوام کو کس حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔