اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور آئندہ چند دن نہایت اہم ثابت ہوں گے۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران ہر صورت معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اگر امریکا مداخلت نہ کرتا تو ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہوتے، جن کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایک اور گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت نہیں کیونکہ حالات تیزی سے کسی حتمی نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ دو دن غیر معمولی نوعیت کے ہوں گے اور کسی بھی وقت جنگ کے خاتمے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ایک بہتر راستہ ہے، کیونکہ اس سے ملک کو دوبارہ تعمیر کا موقع ملے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں ایک نیا نظام قائم ہو چکا ہے اور شدت پسند عناصر کو ختم کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اقتدار میں نہ ہوتے تو دنیا شدید تباہی کا شکار ہو سکتی تھی۔ انہوں نے مغربی دفاعی اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد نہ پہلے امریکا کے کام آیا اور نہ آئندہ آئے گا۔
ادھر ایک اہم پیش رفت میں امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات پاکستان میں ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگلے دو دن میں مذاکرات کا نیا دور پاکستان میں ہونے کا امکان ہے اور امریکی ذرائع ابلاغ کو بھی وہاں موجود ہونا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان کی عسکری قیادت کی تعریف کرتے ہوئے اسے قابلِ تحسین قرار دیا۔
دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان میں مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق پاکستان اس مقصد کے لیے ترجیحی مقام ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں پہلے مرحلے کے بعد ایرانی قیادت، بشمول پارلیمان کے سربراہ اور وزیر خارجہ، نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
تاحال مذاکرات کے حتمی وقت کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق ایران ایک فنی وفد کے ساتھ امریکی نمائندوں سے ملاقات کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کیا جا سکے۔
مزید اطلاعات کے مطابق اگر جنگ بندی سے پہلے ایک اور ملاقات ہوتی ہے تو اس کی قیادت ممکنہ طور پر امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ امریکی وفد میں صدر کے خصوصی نمائندے اور دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہوں گی۔
موجودہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور پاکستان اس اہم سفارتی عمل میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے، جس کے عالمی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔