اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ملک بھر میں توانائی کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے اور بجلی کی طلب و رسد میں فرق بڑھ کر پانچ ہزار سات سو چھبیس میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔
پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق ملک میں اس وقت بجلی کی مجموعی پیداوار چودہ ہزار دو سو چوہتر میگا واٹ ہے جبکہ طلب بیس ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اس بڑے فرق کے باعث نظام پر شدید دباؤ ہے۔
ذرائع کے مطابق پن بجلی سے ایک ہزار پانچ سو تیس میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، جبکہ تھرمل ذرائع سے سات ہزار آٹھ سو چودہ میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ اسی طرح شمسی توانائی سے چار سو پچاس میگا واٹ، ہوا سے ایک ہزار چار سو نوے میگا واٹ اور ایٹمی ذرائع سے دو ہزار آٹھ سو نوے میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ بیاس پاور پلانٹ سے ایک سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق طلب اور رسد میں اس بڑے فرق کے باعث لوڈ مینجمنٹ میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور شہریوں کو غیر اعلانیہ بجلی بندش کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مائع قدرتی گیس کی درآمد صفر ہونے کے باعث اس ایندھن پر چلنے والے بجلی گھر بند ہو گئے ہیں۔ حویلی بہادر شاہ، بھیکی اور نندی پور کے بجلی گھروں سے پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ساہیوال بجلی گھر بھی تقریباً بند ہے۔
اسی طرح نیلم جہلم منصوبہ بھی بند ہونے کے باعث پن بجلی کی پیداوار مزید متاثر ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ترسیلی لائنیں بھی مکمل صلاحیت کے مطابق بجلی منتقل کرنے سے قاصر ہیں اور تقسیم کار اداروں کا نظام بھی شدید دباؤ میں ہے، جس سے مجموعی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔