مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران میڈیا رپورٹس اور بیانات کے مطابق اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے
جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق واشنگٹن اپنی سخت اور یکطرفہ شرائط سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں جس کے باعث سفارتی عمل آگے نہیں بڑھ رہا۔
ایران کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں پر مبینہ پابندیاں یا ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تب تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا امکان نہیں ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی تیل اور تجارتی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بیانات میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے سے قبل بحری دباؤ برقرار رہے گا، اور امریکا کسی بھی قسم کے دباؤ یا بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرے گا۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان صورتحال دوبارہ بگڑنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں کی ہیں اور ایک نئی سیکیورٹی حد (یلو لائن) کے قیام کا دعویٰ کیا ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک فرانسیسی امن اہلکار کی ہلاکت پر حزب اللہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، تاہم حزب اللہ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور شپنگ راستوں کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہو۔