اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہجرت کے نظام کو پائیدار بنایا جائے اور نئے آنے والوں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں، موزوں روزگار حاصل کریں اور معیشت میں مؤثر کردار ادا کریں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے نئے افراد اپنے گھروں، ملازمتوں اور معاشرتی ماحول میں رچ بس رہے ہیں، انہیں ہر ممکن سہارا اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ کامیاب زندگی گزار سکیں۔
اسی مقصد کے تحت منعقدہ “نئے آنے والوں کے لیے مساوات کے موضوع پر پریمیئر کا اجلاس” عملی اقدامات پر مرکوز رہا۔ اس اجلاس میں تعلیمی اسناد کی بہتر تسلیم کاری، رہنمائی کے مواقع میں اضافہ، اور ماہر افراد کو آجروں سے جوڑنے جیسے اہم نکات پر غور کیا گیا۔
صوبے کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ جب نئے آنے والے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں تو اس سے پورا صوبہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق اس اجلاس کا مقصد رکاوٹوں کو ختم کرنا اور نئے افراد کی موجودہ مہارتوں کو تسلیم کرنا ہے، تاکہ ان کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور صوبے کے تمام شہری اس سے مستفید ہوں۔
یہ اجلاس چوتھی بار منعقد کیا گیا، جس کا موضوع صوبے کی معیشت کو آگے بڑھانا اور نئے آنے والوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا تھا۔ اس موقع پر کامیاب افراد کی کہانیاں، پیشہ ورانہ انضمام میں رہنمائی کا کردار، اور بہترین طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی۔
کثیرالثقافتی امور کے معاون وزیر محمد یاسین نے کہا کہ نئے آنے والے صوبے کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ وہ مہارت، جدت اور توانائی ساتھ لاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے وسائل فراہم کر رہی ہے جن کی مدد سے نئے افراد ملازمت حاصل کر سکیں، اپنی تعلیم کے مطابق پیشہ اختیار کریں یا کاروبار شروع کر سکیں۔
حکومت نے حالیہ اقدامات میں ایسے قوانین بھی شامل کیے ہیں جن کے تحت پیشہ ورانہ ادارے بلاوجہ مقامی تجربے کی شرط عائد نہیں کر سکیں گے، سوائے اس کے کہ صحت یا تحفظ کے تقاضے ہوں۔ اس کے علاوہ ایک نیا مسودۂ قانون بھی پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد غیر ملکی کارکنوں کو استحصال سے بچانا اور بھرتی کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔
اجلاس کے دوران حاصل ہونے والی آراء آئندہ پالیسی سازی میں مدد دیں گی، تاکہ نئے آنے والے اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں مواقع سے جوڑ سکیں اور صوبے کی طویل المدتی ترقی میں حصہ ڈال سکیں