اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال میں پولیس کے مطابق مجموعی طور پر جرائم کی شرح اب بھی نسبتاً کم ہے، تاہم ایک تشویشناک رجحان سامنے آ رہا ہے جس کے تحت کم عمر نوجوان پہلے کی نسبت زیادہ جلد جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں، بعض اوقات یہ عمر چودہ یا پندرہ سال تک بھی دیکھی گئی ہے۔
مونٹریال پولیس کے سابق افسر پیئٹرو پولیٹی نے اس صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ہم عمر افراد کے دباؤ تک محدود نہیں رہا بلکہ اب بالغ افراد خود نوجوانوں کو جرائم کے لیے بھرتی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک نیا اور خطرناک رجحان ہے جہاں نوجوانوں کو مختلف غیر قانونی سرگرمیوں، حتیٰ کہ سنگین جرائم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ گروہ خود کو پس منظر میں رکھتے ہوئے کم عمر افراد کو آگے لا رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ کم عمر افراد کے لیے سزائیں نسبتاً کم سخت ہوتی ہیں۔ اس حکمت عملی کے باعث نوجوانوں کو آسانی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب نوجوانوں میں تشدد کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے بھی مونٹریال میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد ابتدائی سطح پر رہنمائی اور روک تھام کے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ تنظیم سے وابستہ جوسایا اسرائیل کے مطابق ان کا پروگرام پہلی بار دو ہزار اٹھارہ میں امریکہ کے شہر جیکسن میں شروع کیا گیا تھا اور اب اسے مزید علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو مثبت راستہ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کم عمر افراد اکثر واضح رہنمائی اور مقصد کی کمی کے باعث جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں بروقت درست سمت دکھائی جائے۔
پولیس حکام کے مطابق سال دو ہزار چھبیس کے لیے نوجوانوں کے جرائم کی روک تھام ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں کمیونٹی کے ساتھ رابطے بڑھانے، ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے اور بے گھر افراد کے لیے بہتر حکمت عملی اپنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ محض گرفتاریوں کے بجائے نوجوانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ، رہنمائی اور اعتماد سازی ہی اس بڑھتے ہوئے مسئلے کا مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔