اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل اسلام آباد میں متوقع ہے، تاہم ایرانی حکام کے بیانات نے اس امکان کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پاکستان آمد آج متوقع ہے جبکہ ایرانی مذاکراتی وفد کے بھی دارالحکومت پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس آج صبح پاکستان کے لیے روانہ ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے نتیجے میں ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کا باعث بنے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، یہ اقدام جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے اور معاہدہ صرف اسی صورت ہوگا جب بہترین شرائط حاصل ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل رابطے کے پیغام میں کہا کہ وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس پر پوری دنیا فخر کرے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ عالمی امن، سلامتی اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاہم اگر ایران کی قیادت دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو ملک کا مستقبل خوشحال ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سابق امریکی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما اور جو بائیڈن کے ادوار میں ہونے والے معاہدے امریکی سلامتی کے لیے نقصان دہ تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سابقہ معاہدہ ختم نہ کیا جاتا تو مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
امریکی صدارتی دفتر نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی نقصان دہ معاہدے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بیان کے مطابق اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور امریکا سمیت دنیا بھر میں امن کا باعث ہوگا۔
ادھر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اور دھمکیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات قابل قبول نہیں ہوں گے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے مثبت کردار ادا کیا، تاہم امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں اور ایرانی وفد کے پاکستان آنے کا بھی امکان نہیں ہے۔
دریں اثنا پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں خطے میں امن کے لیے کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ اشتعال انگیز اقدامات، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، اور ایران کے خلاف دھمکی آمیز بیانات سفارتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ایک جانب ممکنہ مذاکرات کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب متضاد بیانات نے اس عمل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ دکھائی دیتی ہے۔