اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے سربراہ ٹم کک نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی پندرہ برس پر محیط ایک اہم دور کا اختتام ہو جائے گا۔ ان کے دور میں کمپنی کی مالیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور یہ کئی کھرب ڈالر تک جا پہنچی۔
پینسٹھ سالہ ٹم کک یکم ستمبر سے اپنی ذمہ داریاں کمپنی کے ہارڈویئر انجینئرنگ کے سربراہ جان ٹرنس کے حوالے کر دیں گے۔ تاہم وہ مکمل طور پر کمپنی سے علیحدہ نہیں ہوں گے بلکہ بطور ایگزیکٹو چیئرمین اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔
اس تبدیلی کے تحت کمپنی کے موجودہ غیر انتظامی چیئرمین آرتھر لیونسن اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے، لیکن وہ بورڈ کے رکن کے طور پر برقرار رہیں گے۔
ٹم کک نے اپنے بیان میں کہا کہ ایپل کی قیادت کرنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمپنی سے گہری محبت رکھتے ہیں اور انہیں اس باصلاحیت اور تخلیقی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملنے پر فخر ہے۔
نئے سربراہ جان ٹرنس گزشتہ پچیس برس سے کمپنی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں انہوں نے آئی فون، آئی پیڈ اور میک جیسے اہم مصنوعات کی انجینئرنگ کی نگرانی کی، جس کی بنیاد پر انہیں اس عہدے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایپل کو اس شعبے میں کچھ مشکلات کا سامنا رہا اور کمپنی اپنی وعدہ کردہ نئی سہولیات بروقت متعارف کرانے میں پیچھے رہی۔
اسی سال کمپنی نے اپنی صوتی معاون سروس کو بہتر بنانے کے لیے گوگل سے مدد حاصل کی، جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹم کک نے ایپل کو غیر معمولی کامیابیوں تک پہنچایا، تاہم اب وقت آ گیا تھا کہ قیادت نئی نسل کے حوالے کی جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت مستقبل کی سب سے بڑی ترجیح بن چکی ہے۔
یاد رہے کہ ٹم کک نے دو ہزار گیارہ میں اس وقت قیادت سنبھالی تھی جب کمپنی کے بانی اسٹیو جابز کا انتقال ہوا تھا۔ ان کے دور میں ایپل دنیا کی پہلی کمپنی بنی جس کی مالیت ایک، پھر دو اور پھر تین کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔