اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا کی قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کے روز ایک شدید تنازع کھڑا ہو گیا، جب آزاد رکن اسمبلی Tara Armstrong نے ایک بحث کے دوران ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں ناقدین نے تاریخی طور پر نہایت نامناسب اور نفرت انگیز قرار دیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اسمبلی میں مقامی اقوام سے متعلق ایک معاہدے پر بحث جاری تھی۔ کیلونا لیک کنٹری کولڈ اسٹریم کی نمائندہ نے اپنے خطاب میں ایک ایسا فقرہ استعمال کیا جسے ناقدین نے ماضی میں نسلی برتری کے نظریات سے جوڑا۔ ان کے بیان پر فوری ردعمل سامنے آیا اور متعدد اراکین نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا۔
آزاد رکن Elenore Sturko نے فوری طور پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی زبان اسمبلی جیسے ادارے میں ہرگز استعمال نہیں ہونی چاہیے، خاص طور پر جب بات مقامی اقوام کے بنیادی حقوق کی ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ رکن اپنے الفاظ واپس لے۔
اسی دوران سری سٹی سنٹر سے منتخب رکن Amna Shah نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی گفتگو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرتی ہے بلکہ ان لوگوں کی توہین بھی ہے جنہوں نے طویل عرصے سے ناانصافی کا سامنا کیا ہے۔
وزیراعلیٰ David Eby نے بھی اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا اور سوشل ذرائع ابلاغ پر جاری بیان میں کہا کہ اسمبلی میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بیان کی واضح مذمت کریں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں مقامی اقوام کے حقوق اور معاہدوں پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف سیاسی ماحول کو کشیدہ کیا ہے بلکہ تاریخی حساسیت اور ذمہ دارانہ گفتگو کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔