اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)راولپنڈی اور خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں، دفاتر اور دیگر عمارتوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ پشاور، سوات، بونیر، چترال، نوشہرہ اور صوابی میں بھی محسوس کیے گئے۔ اس کے علاوہ بٹگرام، مانسہرہ، ہری پور اور ایبٹ آباد کے علاقوں میں بھی زمین لرزنے کے باعث شہری گھبرا کر کھلی جگہوں کی طرف نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت پانچ اعشاریہ سات ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز افغانستان اور تاجکستان کے سرحدی پہاڑی علاقہ میں تھا۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً ایک سو ستر کلومیٹر زیر زمین بتائی گئی ہے جس کے باعث اس کے جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے اچانک جھٹکوں کے دوران بیشتر شہری خوفزدہ ہو گئے اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں، کھلے میدانوں اور پارکوں میں جمع ہو گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ بعد کے جھٹکے سے محفوظ رہ سکیں۔ کئی مقامات پر مساجد میں نمازیوں نے نماز کے دوران یا بعد میں فوری طور پر باہر نکل کر کھلی جگہوں کا رخ کیا۔
تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ریسکیو ادارے اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
زلزلے کے بعد مختلف علاقوں میں شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ لوگ اپنے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کی خیریت معلوم کرنے میں مصروف رہے۔ بعض علاقوں میں موبائل فون نیٹ ورک پر بھی دباؤ دیکھا گیا کیونکہ شہری ایک دوسرے سے رابطہ کر رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے زلزلے خطے میں موجود فالٹ لائنز کی حرکت کے باعث آتے رہتے ہیں اور عوام کو چاہیے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو یقینی بنائیں۔