اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی نئی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مطلوبہ مقاصد کے حصول تک کارروائی جاری رہے گی۔
ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور ٹیلیفون کے ذریعے بات چیت ہو رہی ہے، تاہم پیش رفت تسلی بخش نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے مگر ایسی شرائط پیش کر رہا ہے جن سے وہ متفق نہیں۔ ان کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں، اور یہی معاملہ مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو منتشر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں واضح قیادت نظر نہیں آتی اور مختلف بیانات صورتحال کو مزید الجھا رہے ہیں۔
امریکی صدر نے پاکستان کے لیے ایک بار پھر مثبت جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیرِ اعظم اور فوجی قیادت کے لیے احترام رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر رابطوں میں کردار ادا کیا ہے۔
ایک اور بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہازوں، سامان اور تیل پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور اس عمل کو انہوں نے “قزاقوں جیسا” قرار دیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ یہ اقدامات سنجیدہ حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے، اس کی فضائیہ اور بحریہ مؤثر نہیں رہی جبکہ دفاعی نظام بھی کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں اعلیٰ قیادت کے اہم افراد منظر سے ہٹ چکے ہیں، جس سے وہاں ایک بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ایرانی شخصیات کی جانب سے رابطے کیے جا رہے ہیں اور معاہدے کی پیشکش کی جا رہی ہے، جبکہ امریکی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس فریق سے باضابطہ مذاکرات کیے جائیں۔ ان کے مطابق بات چیت جاری ہے مگر ابھی تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔