اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی پارلیمان میں ایک نئی قانون سازی کی تیاری جاری ہے، جس کے تحت اس اسٹریٹجک سمندری راستے سے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے سخت شرائط نافذ کی جائیں گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ قانون سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایران کے مؤقف اور کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے کہا ہے کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنے “جائز حقوق” سے دستبردار نہیں ہوگا، کیونکہ یہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کو نئے قواعد و ضوابط کے تحت سفر کرنا ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط بین الاقوامی قوانین اور علاقائی ہمسایہ ممالک کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے جائیں گے۔
نیکزاد کے مطابق اس نئے نظام کے تحت جہازوں سے ٹول وصول کیا جائے گا، جو آبنائے میں تحفظ، نیویگیشن اور موسمیاتی نگرانی جیسی خدمات پر خرچ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آمدن ایران کی دفاعی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی منصوبوں پر استعمال کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس قانون پر عمل درآمد کے لیے حتمی اجازت سپریم لیڈر سے لی جائے گی اور بعد ازاں اسے مسلح افواج کے حوالے کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی سمندری راستوں اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے کشیدگی بڑھ چکی ہے، اور آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم مقام بنی ہوئی ہے۔