اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)تعلیمی نظام میں بہتری اور طلبہ پر تعلیمی بوجھ کم کرنے کے لیے پہلی سے پانچویں جماعت کے نصاب میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق نئے تعلیمی سال سے نیا اور نظرثانی شدہ نصاب نافذ کیا جائے گا، جس میں موجودہ نصاب کو مختصر کرنے اور غیر ضروری مواد کو کم کرنے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
نصاب ایڈوائزری بورڈ نے ان تبدیلیوں کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ حکام کے مطابق اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ طلبہ پر غیر ضروری تعلیمی دباؤ کم کیا جائے اور انہیں جدید تعلیم کے مطابق بہتر سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
نئے نصاب میں سیکھنے کے اہداف یعنی “ایس ایل اوز” میں بھی کمی کی جائے گی تاکہ تعلیم کو زیادہ مؤثر اور آسان بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل تعلیم، اخلاقیات اور ماحولیات جیسے اہم موضوعات کو بھی نصاب کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔
سی ای او پیکٹا کے مطابق نئے نصاب پر کام شروع کر دیا گیا ہے اور اسے جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصلاحات پر تیزی سے کام جاری ہے تاکہ آئندہ تعلیمی سال میں طلبہ کو ایک بہتر اور اپڈیٹڈ نصاب فراہم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ تبدیلیاں عالمی تعلیمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہیں، تاکہ بچوں کو روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید مہارتیں بھی فراہم کی جا سکیں اور وہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔