اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں علیحدگی کی تحریک نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، جہاں منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صوبے کو ملک سے الگ کرنے کے حق میں رائے شماری کے مطالبے کے لیے تین لاکھ ایک ہزار سے زائد دستخط جمع کرا دیے ہیں۔ اس پیش رفت کو تحریک کے حامی ایک تاریخی قدم قرار دے رہے ہیں۔
درخواست گزار مچ سلویسٹر، جو “اسٹے فری البرٹا” نامی تنظیم کے سربراہ ہیں، نے پیر کے روز تقریباً تین سو پرچم لہراتے حامیوں کے ہمراہ الیکشن البرٹا کے دفتر میں دستخطوں سے بھرے ڈبے جمع کرائے۔ اس موقع پر حامیوں میں جوش و خروش پایا گیا اور انہوں نے اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر سراہا۔
حکام کے مطابق جمع کرائے گئے ڈبوں کو پہلے وزن کیا جائے گا، پھر انہیں بند کر کے باقاعدہ مہر لگائی جائے گی، جس کے بعد تصدیق کا عمل شروع کیا جائے گا۔ تاہم فی الحال تصدیق کا مرحلہ عدالتی فیصلے تک مؤخر ہے۔
مچ سلویسٹر نے اپنے خطاب میں کارکنان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ “آپ لوگوں کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا۔ آپ نے سرد موسم برداشت کیا، تنقید سنی اور مخالفت کا سامنا کیا، مگر اپنے مقصد پر قائم رہے۔”
یاد رہے کہ اس سے قبل سلویسٹر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی تنظیم نے جنوری میں مہم شروع کرنے کے بعد ایک ماہ قبل ہی مطلوبہ ایک لاکھ اٹھہتر ہزار دستخطوں کی حد عبور کر لی تھی، جو صوبائی قانون کے مطابق ضروری ہے۔
اب ایک جج کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا الیکشن البرٹا اس عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ صوبے کی چند مقامی اقوام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ درخواست معاہداتی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس عمل کو روکنے کے لیے عدالت سے حکم امتناع طلب کیا گیا ہے۔ اس اہم فیصلے کی توقع اسی ہفتے کی جا رہی ہے۔
اگر دستخطوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو صوبے کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کے مطابق علیحدگی سے متعلق سوال اکتوبر میں ہونے والے صوبائی بیلٹ پر شامل کیا جا سکتا ہے۔
ادھر ایک اور تنازع اس وقت سامنے آیا جب ایک علیحدگی پسند گروہ نے لاکھوں ووٹرز کے نام اور پتے پر مشتمل فہرست منظر عام پر لا دی۔ اس معاملے پر الیکشن حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متعلقہ درخواست کو عدالت کے حکم پر بند بھی کر دیا گیا ہے۔
یہ تمام پیش رفت البرٹا میں جاری سیاسی کشمکش کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، اور آنے والے دنوں میں عدالتی فیصلہ اس تحریک کے مستقبل کا تعین کرے گا۔