البرٹا میں نئی تیل پائپ لائن پر پیش رفت، وزیرِاعظم مارک کارنی سے ملاقات کے بعد امید بڑھ گئی: ڈینیئل اسمتھ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم مارک کارنی سے اوٹاوا میں ہونے والی ملاقات کے بعد انہیں نئی تیل پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اعتماد حاصل ہوا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ صبح وہ یہ کہہ رہی تھیں کہ “اگر” معاہدہ طے پاتا ہے، لیکن ملاقات کے بعد اب وہ “جب” معاہدہ طے پائے گا کی بات کر رہی ہیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان اختلافی نکات پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب البرٹا میں علیحدگی کے حق میں ریفرنڈم کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر وفاقی حکومت اور البرٹا کے درمیان توانائی معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے عوام کو یہ پیغام ملے گا کہ “کینیڈا ایک مؤثر ملک کے طور پر کام کر سکتا ہے۔”

علیحدگی کے حق میں ریفرنڈم کرانے کے لیے سرگرم تنظیموں نے چند روز قبل تین لاکھ سے زائد دستخط الیکشنز البرٹا کے حوالے کیے تھے۔ تاہم ایک عدالتی حکم کے باعث ان دستخطوں کی جانچ فی الحال روک دی گئی ہے کیونکہ البرٹا کی چند مقامی اقوام نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ یہ عمل معاہداتی حقوق کے خلاف ہے۔ اس مقدمے پر جلد فیصلہ متوقع ہے۔

ادھر البرٹا اور وفاقی حکومت توانائی اور ماحولیات سے متعلق ایک معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ تیل و گیس کی پیداوار اور ماحولیاتی ضوابط پر برسوں سے جاری اختلافات ختم کیے جا سکیں۔

ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ مجوزہ معاہدے میں نئی بٹومین پائپ لائن کی منظوری کے لیے کئی شرائط شامل ہیں، جن میں کاربن ذخیرہ اور اخراج میں کمی کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ تیل کی صنعت اور البرٹا کے عوام بے چینی محسوس کر رہے ہیں، اس لیے وہ چاہتی ہیں کہ مفاہمتی یادداشت پر آنے والے چند دنوں میں پیش رفت ہو تاکہ عوام کو واضح اشارہ مل سکے کہ وفاق اور صوبہ مل کر کام کر سکتے ہیں۔

وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی کہا کہ حکومت البرٹا سمیت تمام کینیڈین شہریوں کے لیے ملک کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، اور جب کینیڈا بہتر انداز میں کام کرتا ہے تو اس کا فائدہ پوری دنیا کو ہوتا ہے۔

اسمتھ نے بتایا کہ مذاکرات میں اب بھی چند اہم نکات زیرِبحث ہیں، جن میں صنعتی کاربن قیمت کو ایک سو تیس ڈالر فی ٹن تک بڑھانے کی مدت شامل ہے۔ ان کے مطابق آج کی ملاقات میں کئی اہم معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا ہوا ہے اور جلد مزید واضح اعلان متوقع ہے۔

ابتدائی طور پر اس معاہدے کی شرائط مکمل کرنے کی آخری تاریخ یکم اپریل مقرر تھی، جسے بعد میں یکم جولائی تک بڑھا دیا گیا۔

ممکنہ مغربی ساحلی پائپ لائن کو برٹش کولمبیا سے گزرنا ہوگا، جہاں صوبائی وزیرِاعلیٰ ڈیوڈ ایبی وفاقی حکومت سے مائع قدرتی گیس منصوبوں کے لیے بھی تعاون چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پائپ لائن منصوبہ البرٹا کے لیے اہم ہے، لیکن ابھی تک اس کا کوئی واضح راستہ یا باضابطہ سرمایہ کار سامنے نہیں آیا۔

اسی دوران وفاقی حکومت نے دو مشاورتی دستاویزات بھی جاری کی ہیں جن میں تجویز دی گئی ہے کہ بین الصوبائی پائپ لائنوں اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کی منظوری کا اختیار امپیکٹ اسیسمنٹ ایجنسی کے بجائے کینیڈا انرجی ریگولیٹر کو دیا جائے۔

تیل و گیس کے شعبے نے اس پیش رفت کو محتاط امید کے ساتھ خوش آئند قرار دیا ہے، جبکہ ماحولیاتی تنظیموں نے اس پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ ان کی حکومت پانچ ممکنہ پائپ لائن راستوں پر غور کر رہی ہے اور بڑی تیل کمپنیاں مشاورتی عمل میں شریک ہیں۔ ان کے مطابق اگر منصوبے کو آگے بڑھنے کی منظوری ملتی ہے تو نجی شعبے کی بڑی کمپنیاں اس کی حمایت میں سامنے آ جائیں گی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں