کینیڈا میں ہنٹا وائرس کا خوف، البرٹا اور اونٹاریو میں نگرانی سخت

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے محکمۂ صحت نے صوبہ البرٹا میں دو افراد کو نایاب ہنٹا وائرس کے ممکنہ خطرے کے باعث نگرانی میں رکھ لیا ہے، جبکہ ملک کی اعلیٰ طبی افسر نے واضح کیا ہے کہ عوام کے لیے مجموعی خطرہ اب بھی انتہائی کم ہے۔

کینیڈا کی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جوس رائمر کے مطابق حکام اس وقت تین ایسے افراد کا جائزہ لے رہے ہیں جن کا مختصر رابطہ ایک متاثرہ شخص سے مختلف فضائی سفر کے دوران ہوا تھا۔ ان میں دو افراد البرٹا جبکہ ایک اونٹاریو میں موجود ہے۔

البرٹا کی وزارتِ بنیادی اور احتیاطی صحت خدمات نے تصدیق کی کہ صوبے کے دو رہائشی ایسے شخص کے رابطے میں آئے تھے جس میں بعد ازاں وائرس کی تشخیص ہوئی۔ وزارت کے مطابق دونوں افراد سے رابطہ کر لیا گیا ہے اور وہ گھروں میں رہتے ہوئے اپنی علامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

وزارت کے شعبۂ اطلاعات کے ڈائریکٹر ٹام میک ملن نے بیان میں کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، وفاقی حکام سے قریبی رابطے میں ہے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

متاثرہ البرٹا کے شہری اُس ابتدائی گروہ میں شامل نہیں تھے جس میں کروز جہاز پر موجود چھ کینیڈین شامل تھے، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ سفر کے دوران ان کا سامنا ایک متاثرہ مسافر سے ہوا تھا۔

صوبائی حکام نے رازداری کے باعث یہ بتانے سے انکار کیا کہ دونوں افراد البرٹا کے کس صحتی علاقے میں موجود ہیں۔

ڈاکٹر جوس رائمر نے کہا کہ اس وبا سے منسلک اینڈیز وائرس عام طور پر کینیڈا میں نہیں پایا جاتا، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ متاثرہ افراد نے کینیڈا واپسی کے دوران کسی اور کو وائرس منتقل کیا ہو۔ ان کے مطابق متعلقہ صوبوں کے ساتھ رابطہ کیا جا چکا ہے اور ہر صوبے نے ایسے مخصوص اسپتال نامزد کیے ہیں جہاں اس نوعیت کے پیچیدہ وائرس سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔

اب تک کسی بھی کینیڈین شہری میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

متاثرہ کروز جہاز “ایم وی ہونڈیئس” پر چھ کینیڈین سوار تھے۔ ان میں سے تین افراد 26 اور 27 اپریل کو وائرس کی شناخت سے پہلے کینیڈا واپس پہنچ گئے تھے۔ ان میں دو اونٹاریو جبکہ ایک کیوبیک میں تنہائی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مزید چار کینیڈین تاحال جہاز پر موجود ہیں اور ان میں کسی قسم کی علامات سامنے نہیں آئیں۔ کینیڈین سفارتی حکام جہاز کے مسافروں کی مدد کے لیے انتظامات کر رہے ہیں جبکہ جہاز جزائرِ کینری کی جانب روانہ ہے۔

ڈاکٹر رائمر کے مطابق اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے کا دورانیہ ایک سے چھ ہفتوں تک ہو سکتا ہے، جبکہ بعض نایاب صورتوں میں اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اسی لیے مزید کیسز سامنے آنے کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ خطرہ کم ہے۔

اینڈیز وائرس ہنٹا وائرس کی وہ واحد قسم ہے جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔

ہسپانوی حکام نے “ایم وی ہونڈیئس” کو جزائرِ کینری میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دے دی ہے، تاہم شرط رکھی گئی ہے کہ ہر ملک اپنے شہریوں کی ذمہ داری خود اٹھائے گا۔ کینیڈا اس سلسلے میں ہسپانوی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مسافروں کو بحفاظت جہاز سے اتارا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں