سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی سزا 26سال بعدکالعدم قرار دے دی، بریت بحال

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کو دو ہزار میں دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کا دو ہزار دو کا بریت کا فیصلہ بھی بحال کر دیا۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے قانون کے تحت زیادہ سخت سزا نہیں دی جا سکتی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل بارہ ماضی کے اثر سے سزا دینے پر واضح پابندی عائد کرتا ہے۔

فیصلے کے مطابق نیب آرڈیننس انیس سو ننانوے کے تحت دی جانے والی سزا اُس وقت موجود سابقہ قوانین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی، اس لیے اسے ماضی کے مقدمات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ انور سیف اللہ خان نے بطور وفاقی وزیر پٹرولیم تمام تقرریاں سرکاری ریکارڈ اور محکمانہ روایات کے مطابق کی تھیں، جبکہ ان پر غیر قانونی تقرریوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں دو ہزار سولہ کے اکثریتی فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے نظرثانی درخواست منظور کر لی اور لاہور ہائی کورٹ کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں