اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد تباہی کی صورتحال ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
اس ہولناک آفت کے دوران وینزویلا میں مقیم کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والی خاتون استاد ہیدر میکے نے وہاں کی دل دہلا دینے والی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ عام شہری اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ننگے ہاتھوں سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق بدھ کے روز آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلوں کے نتیجے میں کم از کم 1,420 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 51 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔کینیڈین استاد ہیدر میکے، جو وینزویلا کے برٹش اسکول میں تدریسی فرائض انجام دے رہی ہیں، نے بتایا کہ زلزلہ اس وقت آیا جب وہ اپنے اپارٹمنٹ سے ایک دوست کے ساتھ رات کے کھانے پر جانے کے لیے نکل رہی تھیں۔
ان کے مطابق اچانک زمین اس شدت سے ہلنے لگی جیسے سمندر کی لہریں ہر طرف اٹھ رہی ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں احساس ہوا کہ زلزلہ آیا ہے تو وہ فوراً کھلے مقام کی طرف بھاگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر طرف لوگ خوف کے عالم میں عمارتوں سے نکل رہے تھے، کئی عمارتوں میں بڑے بڑے شگاف پڑ چکے تھے اور متعدد عمارتیں جزوی طور پر منہدم ہو چکی تھیں، جس سے پورا شہر تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ہیدر میکے نے بتایا کہ ان کی اپنی رہائشی عمارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور اب وہ وہاں رہنے کے قابل نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی نچلی منزل میں بڑے سوراخ ہو گئے ہیں جبکہ سیڑھیوں کے قریب پوری دیوار گر چکی ہے، جس کے باعث انہیں ایک ساتھی استاد کے گھر پناہ لینا پڑی۔ ان کے مطابق آفٹر شاکس اور عمارتوں کی مخدوش حالت کے باعث بیشتر شہری اپنے گھروں میں واپس جانے سے خوفزدہ ہیں اور ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں 14 ہزار سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں، تاہم امدادی سرگرمیوں کا بڑا بوجھ عام شہریوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے ہتھوڑے، دستانے اور ہیلمٹ مانگ رہے ہیں جبکہ بہت سے نوجوان صرف موٹرسائیکل ہیلمٹ پہن کر اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالا جا سکے۔ ان کے مطابق بے شمار متاثرین اپنے گھروں سے صرف تن پر موجود کپڑوں کے ساتھ نکلے اور اب ان کے پاس نہ رہائش ہے اور نہ ہی روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء۔
کینیڈین استاد نے خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں متوقع بارشیں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں کیونکہ ہزاروں افراد پارکوں، میدانوں اور عوامی مقامات پر خیموں یا کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔ دوسری جانب ریڈ کراس نے بھی کہا ہے کہ زلزلے کے بعد ابتدائی 48 سے 72 گھنٹے ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل طویل اور مشکل ثابت ہوگا۔
وینزویلا کے حکام کے مطابق میکسیکو، امریکہ، ایل سلواڈور، سوئٹزرلینڈ، کولمبیا سمیت مختلف ممالک سے 861 سے زائد رضاکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید بین الاقوامی امدادی ٹیموں کی آمد بھی جاری ہے۔ ہیدر میکے نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں وینزویلا پر ہیں، لیکن آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بھی اس ملک کو مسلسل امداد اور تعاون کی ضرورت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ "وینزویلا کے عوام انتہائی بہادر، محنتی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے والے لوگ ہیں، لیکن موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے انہیں پوری دنیا کی عملی مدد درکار ہے، اس لیے براہِ کرم وینزویلا کو فراموش نہ کیا جائے۔